Articlesاسلامک آرٹیکلز

قرآن کی بدولت عربی زبان کی حفاظت

 

قرآن کی بدولت عربی
زبان کی حفاظت


جس وقت قرآن نازل ھو رہا تھا تو اس وقت
جتنی بھی زبانیں بولی جاتی تھیں وہ ساری زبانیں ختم ھوگئیں،اور کوئ بھی زبان ھو
زیادہ سے زیادہ تین یا چار سو سال تک باقی رہتی ھے پھر اس کے بعد یا تو اس کے
بولنے والے نہیں رہتے یا پھر اس کے سمجھنے والے نہیں رہتے ،نتیجہ کے طور پہ وہ
زبان ختم ھو جاتی ھے۔

مثال کے طور پہ آج جو ہم اردو بولتے ھیں
،شاید تین یا چار سو سال کے بعد اس زبان کے بولنے والوں اور سمجھنے والوں کا وجود
اس دنیا سے ختم ھوجاے اور یہ زبان بھی باقی نہ رھے۔

مگر لسانیات کی تاریخ میں ایک عظیم مثال
ملتی ھے،کہ عربی زبان وہ واحد زبان ھے جو کہ سرکار دو عالم نور مجسم ،شفیع معزم
تاجدارِ انبیاء امام الانبیاء ،سید العرب والعجم۔جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ
علیہ التحیۃ والتسلیم کی اس کائنات میں تشریف آوری سے چار سو سال پہلے بھی یہی
عربی زبان بولی جارہی تھی،

اور مزے کی بات یہ ھے کہ اس وقت بھی یہی
رسم الخط،یہی اسلوب،یہی الفاظ،اور طریقہ کار تھا جو کہ آج ھمیں قرآن و احادیث کے
اندر نظر آتا ھے۔

اور یہی وہ میٹھی زبان ھے جو قیامت تک کے
لیے بلکہ قیامت کے بعد بھی جنتیوں کی یہی زبان ھوگی۔

سبق/نتیجہ:

آج جدید دور کے اندر جس طرح ہماری کوشش
انگلش ،ترکش ،چائنیز یا دنیا کی دیگر زبانوں پہ عبور حاصل کرنے کی ھوتی ھے اسی طرح
ہماری کوشش عربی زبان سیکھنے کے لیے دیگر زبانوں کی نسبت زیادہ ھونی چاھئے تاکہ رب
العالمین کے قرآن اور رحمۃ اللعالمین کے فرمان کو سمجھنے میں آسانی ھو۔

اللہ کریم ھمیں اپنے حبیب کی میٹھی زبان کو
سیکھنے کی توفیق عطا فرماۓ۔

admin

My mission is to promote the love of our beloved prophet Hazrat Muhammad ﷺ

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button