All PostsArticlesbiography

قصہ سلطان مرادچہارم کا

قصہ سلطان مراد چہارم کا…
رات بے حد تاریک اور طویل تھی اور نیند آنکھوں سے دور تھی اور وہ مسلسل کروٹ بدل رہے تھے لیکن نیند تھی کہ آنے کا نام نہیں لے رہی تھی. وہ اٹھے اور انہوں نے اپنے دربانِ خاص کو بلایا. اس سے اپنی بے چینی ذکر کی. دربانِ خاص نے جواب دیا مجھے خود نہیں معلوم میرے آقا..
دراصل سلطان کی عادت تھی کہ رات کو بھیس بدل کر لوگوں کی خبر گیری کرتے تھے. لوگوں کی مدد کرتے تھے. دیکھتے تھے کہ ملک میں کیا چل رہا ہے. بادشاہ نے کہا چلو چلتے ہیں کہ شاید بے چینی تھوری کم ہو.
وہ دونوں نکلے. یہاں تک کہ شہر کے ایک کنارے پہنچے دیکھا ایک آدمی گرا پڑا ہے. سلطان نے اسے ہلا کر دیکھا تو وہ مردہ تھا. جبکہ لوگ اسکے آس پاس سے گزر رہے تھے. بادشاہ نے لوگوں کو آواز دی لوگ جمع ہوئے لیکن کوئی بادشاہ کو نہ پہچان سکا. سلطان نے لوگوں سے پوچھا: “یہ آدمی کون ہے؟  یہاں مردہ حالت میں پڑا ہوا ہے. کسی نے اسکو اٹھایا کیوں نہیں”؟
لوگوں نے کہا کہ یہ ایک شرابی اور زانی آدمی ہے. ہم اسے دفن کیوں کریں؟
سلطان نے کہا: “یہ آدمی ہے تو امت محمدیہ میں سے. اگر چہ گناہگار تھا لیکن اسکی تدفین کرنا ہمارا فرض ہے. چلو اسکو اٹھائو اور اسکے گھر لے چلو
“.
لوگوں نے اسے اٹھایا اور اس کے گھر لے گئے. جب اسکی بیوی نے لاش دیکھی تو رونے لگی. لوگ چلے گئے تو اس کی بیوی نے کہا میں گواہی دیتی ہوں اللہ کی قسم! یہ اللہ کا ولی تھا. ایک نیک آدمی. سلطان بہت حیران ہوئے اور کہا لوگ تو کہہ رہے تھے یہ ایک فاسق آدمی ہے. جو شراب اور زنا کے علاوہ کچھ نہیں کرتا تھا. اور تم ایسا کہ رہی ہو.
اس عورت نے روتے ہوئے کہا یہ سچ ہے کہ میرا شوہر قہوہ خانے جاتا تھا لیکن شراب لا کر بہا دیتا تھا. اور رات کو روزانہ ایک طوائف کے گھر جاتا اور اسکو ایک رات کی اجرت دیتا اور کہتا کہ دروازہ اندر سے بند کر لے کہ کوئی اندر نہ آئے. اور مجھے آکے کہتا اللہ کا شکر ہے میری وجہ آج اتنے مسلمانوں نے شراب کو ہاتھ نہیں لگایا اور ایک عورت گناہ سے محفوظ رہی لوگ اسکو قہوہ خانے اور طوائف کے گھر آتا جاتا دیکھتے تھے اور میں کہتی تھی کہ تمہارے مرنے کے بعد کوئی بھی تمہیں کفن نہیں دے گا. لیکن وہ کہتا کہ تم دیکھنا وقت کا سلطان اور بڑے بڑے علماء میرا جنازہ پڑھے گے۔
یہ سن کر سلطان رونے لگا اور کہا میں ہی اس وقت سلطان ہوں.
پھر اگلے دن  سلطان، شہر کے بڑے علماء نے اس کا جنازہ پڑھا اور اسکو دفن کیا گیا. لوگوں نے دیکھا کہ مسلمانوں کا خلیفہ ایک عام شخص کا جنازہ پڑھ رہا ہے.
یہ سلطان، آلِ عثمان کا سترھواں سلطان،تین براعظم کا حکمران سلطان مراد چہارم تھا. اور یہ واقعہ کئی تاریخ دان نقل کرتے ہیں.
لوگ سلطان مراد کو ظالم، شرابی، ہم جنس پرست اور پتا نہیں کیا کیا اپنے پاس سے کہتے ہیں.
کیا ایک ظالم و شرابی بادشاہ بھیس بدل کر عوام کی خبر گیری کرتا ہے؟
ایسا نہ ممکن ہے کہ اللہ کا ایک ولی شہر کے کنارے لاوارث و بے یارومددگار وفات پاجائے اور اللہ کی طرف سے بادشاہ کو نیند نہ آنا،اللہ کا بادشاہ کے دل میں باہر نکلنے کا خیال ڈالنا اور اس نیک ادمی کی لاش کے پاس جانا اور اسکی تکفین اور تدفین کرنایہ سب اسی انسان کے ساتھ ہوسکتا ہے جو نیک ہو اور مخلوق کا ہمدرد ہو. نہ کہ ایک ظالم وجابر بادشاہ کے ساتھ. بالکل اسی طرح اس عظیم سلطان کے ساتھ کئی واقعات منسوب ہیں. اس نوجوان سلطان کے دور میں پھر شراب سمیت تمام نشوں پر پابندی لگائی گئی. کیا ہمیں ایسے حکمران کی ضرورت نہیں؟؟؟؟؟

admin

My mission is to promote the love of our beloved prophet Hazrat Muhammad ﷺ

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button